اہم خبریں
حياة
سياحي
تسلية
أخبار أخرى
About Me
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ہسپتال سے چھٹی مل گئی، وائٹ ہاؤس پہنچ گئے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ہسپتال سے چھٹی مل گئی، وائٹ ہاؤس پہنچ گئے واشنگٹن (اُردو نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ہسپتال سے چھٹی مل گئی، وائ...
Blog Archive
- October 2020 (36)
- January 2020 (31)
Labels
فيديو
المشاركات الاخيرة
کھیروں اور ٹماٹروں کوملا کر کھانے سے اجتناب برتیں کیونکہ۔۔۔ ماہرین صحت نے خبردار کردیا
کراچی(این این آئی)عام طور پر سلاد میں کھیرے، پیاز اور ٹماٹروں کو ایک ساتھ ملا کر بہت شوق سے کھایا جاتا ہے اور یہ سمجھاجاتا ہے کہ ان کی وجہ سے جسم کو توانائی اور متوازن خورک ملتی ہے۔ماہرین صحت کے مطابق کھیروں اور ٹماٹروں کو کبھی بھی ملاکر نہیں کھانا چاہیے۔ماہرین نے کہا کہ کھیروں اور ٹماٹروں کو ہضمہونے میں ایک جیسا وقت نہیں لگتا لہذا کبھی بھی انہیں ملاکر نہ کھائیں۔ماہرین صحت کے مطابق جو کھانا جلد ہضم ہوجائے اور دوسرا دیر لگائے تو اس کی وجہ سے معدے پر زیادہ بوجھ پڑتا ہے اور ساتھ ہی جسم
میں پوائزن ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے،ایسے کھانوں کو ملاکرکھانے سے پیٹ میں گیس، سوزش اور درد کا مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے۔
کرنسی میں تبدیلی۔۔پلاسٹک کا بنا پہلا نوٹ جاری۔۔۔
ریاض(نیو زڈیسک)سعودی عریبیئن مانیٹرنگ اتھارٹی (ساما) نے پلاسٹک سے بنے پہلے پانچ ریال کے سعودی نوٹ کا اجراء کردیا۔سعودی سرکاری میڈیا کے مطابق پولیمر سے بنے نئے کرنسی نوٹ میں تمام سکیورٹی فیچرز موجود ہیں اور یہ طویل عرصے تک استعمال کے قابل رہیں گے۔ سعودی مالیاتی ادارے کا مزید کہنا کہ 5 ریال کے کرنسی نوٹوں کے بعد باقی کرنسی نوٹ بھی مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے۔ ساما کے مطابق نئے پلاسٹک کے نوٹ ہونے کے ساتھ ساتھ ان پر آنے والی
لاگت بھی کافی کم ہے۔ جبکہ جعل سازی بھی ممکن نہیں، اور نوٹ پر ہاتھ سے لکھا بھی نہیں جاسکتا۔
مغربی ممالک میں اسلام کا فروغ
خداوند عالم نے انسان کی سرشت وطبیعت کو اس طرح سے خلق کیا ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے اطراف کے مسائل کے بار ےمیں حققیت کے حصول کا درپے رہتا ہے جب انسان پیدا ہوتا ہے اور جب تک موت کی ننید نہيں سوتا اس وقت تک حقیقت کی تلاش و جستجو میں رہتا ہے ۔ البتہ یہ کوشش ، اس کے ماحول ، سن اور جسمی توانائی و فکری حالات کے تناسب سے ہوتی ہے ۔ بالفاظ دیگر خداوند عالم نےانسانوں کو کمال و سعات اور حقائق و معارف کو درک کرنے کے لئے کافی استعداد اورصلاحیتیں عطا کی ہیں تاکہ انہیں بروئے کار لاتے ہوۓ انسان اپنی خلقت کے ہدف و مقصد کو پاسکے ۔ اس سلسلے میں ایسے بہت سے افراد ہیں جنہوں نے تحقیق و جستجو کے ذریعے اپنی توانائیوں سے استفادہ کیا ہے اور انہوں نے راہ سعادت و کمال کو حاصل بھی کیا ہے ۔ ان ہی ميں سے ایک امریکی مسلمان خاتون محترمہ " سوزان ابری" ہیں ۔ آج ہم اس نومسلم خاتون کے افکار سے آشنا ہوں گے ۔
محترمہ سوزان ابری نے کیتھولیک اور مذہبی خاندان میں آنکھیں کھولیں ۔ ان کے والد اہل مطالعہ تھے ۔ اسی بناء پر انہيں عیسائیت کے اصولوں اور نظریات سے مکمل آشنائی تھی اور ان کا عقیدہ تھا کہ دین مسیحیت میں بہت زیادہ تحریفات انجام پائی ہیں ۔ وہ اپنے والد کے بارے میں کہتی ہیں ، میرے والد نے علم کلام میں پی ایچ ڈي کیا تھا اور ان کا شمار کلیسا کے پادریوں میں ہوتا تھا ۔وہ معتقد تھے کہ جو انجیل لوگوں کے ہاتھ میں ہے ، اس انجیل سے مختلف ہے جو ویٹیکن میں موجود ہے ۔ انہوں نے ویٹیکن کی انجیل بھی پڑھی تھی اور کہتے تھے اس میں " احمد " کا، آخری پیمغبر کے عنوان سے ذکر کیا گيا ہے ۔ ان دنوں میں میں اپنے والد کی باتیں اچھی طرح سے نہیں سمجھتی تھی لیکن کلیسا میں ان کی باتیں اس بات کاباعث بنی تھیں کہ حکومت کے دباؤ میں رہتے تھے اور کئی بار اسی سبب سے وہ جیل بھی گئے " ۔ سوزان کے والد کی باتوں نے انہیں اس بات پر مجبور کیا کہ وہ اس آخری پیغمبر کےبارے میں تحقیق کریں کہ جس کا ذکر انجیل میں آیا ہے ۔ وہ جب آخری پیغمبر الہی کی شناخت ميں کوشاں ہوتی ہیں اور تحقیقات انجام دیتی ہيں تو آخرکار ، اسلام سے آشنا ہوجاتی ہیں اور اس بات کو سمجھ جاتی ہیں کہ جس دین کا پیغمبر ختمی مرتبت (ص) نے تعارف کرایا ہے وہ دین اسلام ہے ۔ وہ کہتی ہیں ميں نے اس سےقبل بعض مواقع پر اسلام کا نام سنا تھا ۔ اور اسے امریکہ میں تشدد پسند دین کا نام دیا جاتھا تھا ۔ لیکن ميں نے اسلام کے خلاف ہونے والے منفی پروپگنڈوں کے باوجود یہ فیصلہ کیاکہ اصلی اور حقیقی منبع و مآخذ کے پیش نظر اسلام کے بارے میں اپنے مطالعے اور تحققیات کو شروع کروں اور میں نے ایسا ہی کیا چنانچہ مجھے میرے بہت سے سوالوں کے جواب مل گئے ۔ اسلام اور اس کی تعلیمات ، حقیقت میں ہمارے لئے بہت جاذب اور پرکشش تھیں۔ ایران کے اسلامی انقلاب نے اسلامی اور دینی بنیادوں پر نہ صرف ان نظریات کو ، جو دین کو معاشرے کی نابودی اور تباہی کا عامل قرار دیتے ہیں ، باطل قرار دیا ، بلکہ یہ انقلاب لوگوں میں شناخت پیدا کرنے اور فکرکی گہرائی کاسبب بنا۔ آج ، ایران کے اسلامی انقلاب کی برکت سے پوری دنیا بخوبی حریت پسند اور علم و آگہی سے سرشار دین سے آشنا ہوئی ہے اور اس انقلاب نے صدیاں گذرجانے کے بعد بھی ، اسلام کے حقیقی تشخص اور رنگ کو ، جو انقلاب سے قبل کی حکومتوں میں ماند پڑگياتھا، پھر سے ابھار دیا ۔فرانس کے مشہور فلاسفر " میشل فوکو" اسلامی انقلاب کا تجزیہ و تحلیل کرتے ہوئے لکھتے ہیں ایران کے عوام نے اصلاح کے راستے کو اسلام میں پالیا ۔ اسلام ان کے لئے انفرادی اور اجتماعی مسائل و مشکلات کے لئے راہ حل تھا۔ محترمہ سوزان ابری " کا خیال ہے کہ ایران کے اسلامی انقلاب نے انہیں اسلام کی بہتر اور حقیقی شناخت میں مدد کی ۔ وہ کہتی ہیں "امام خمینی اور ایران کا اسلامی انقلاب مجھے اسلام سے آشنا ہونے کا اہم ترین عامل بنا" جب ميں نے ٹیلیویزن سے امام خمینی کاچہر دیکھا توان کے نورانی چہرے نے مجھے اپنی سمت جذب کرلیا اورمیں نے تو یہ تصور کرلیا گویا حضرت عیسی (ع) لوٹ آئے ہیں ۔ رفتہ رفتہ جب ميں امام خمینی اور ان کے افکار سے آشنا ہوئي تو یہ سمجھ گئی کہ اسلام، کس طرح سے ایک معاشرے کی ہدایت اور آزادی کا سبب قرار پا سکتا ہے ۔ آخرکار تحقیقات اورمطالعے کےبعد سوزان نے یہ فیصلہ کیا کہ اسلام کو اپنے دین کے طور پر انتخاب کریں اور انہوں نے اپنا نام " جمیلہ الفرقان " رکھ لیا ۔ لیکن ایک غیر اسلامی ملک میں اس آسمانی دین کو قبول کرنا ان کے لئے انتہائی سخت تھا اسی لئے وہ کہتی ہیں بہت سی چیزیں میرے لئے سخت تھیں ۔ میں عربی سے واقف نہیں تھی اور ابھی حال ہی میں اسے سیکھا ہے اس لئے تاکہ نماز پڑھ سکوں ۔ میں یہ محسوس کرتی تھی کہ جب تک کہ نماز میں استعمال ہونے والے الفاظ کے معانی کو بخوبی نہ سمجھ لوں ، اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے کہ صرف اٹھا بیٹھی کروں ۔ میں بہت افسردہ رہتی تھی کیوں کہ ميں چاہتی تھی کہ جلد از جلد نماز پڑھنا شروع کردوں ۔ ایک دن شہر کی ایک دکان میں گئی وہاں ایک کتاب دیکھی جو انگریزی زبان میں تھی جس کا عنوان تھا " نماز کیسے پڑھوں " ۔ ميں بہت خوش ہوئی جب میں نے چاہا کہ کتاب خریدوں تو جو بک سیلر تھا وہ بھی مسلمان تھا اس نے مجھے وہ کتاب ہدیہ کردی ۔ پھر میں نے اس کتاب سے نماز یاد کی اور سیکھ لی ۔ نماز پڑھنے سے خالق ہستی کی عبودیت اور عبادت کا حسین تصور میرے سامنے آجاتا تھا اور میں اپنے انتخاب سے مطمئن ہوجاتی تھی ۔اوائل میں تو میرا حجاب کامل نہیں تھا صرف ایک اسکارف باندھتی تھی اور پھر بعد میں یہ حجاب مکمل ہوگيا ۔ ان دنوں ، میں ایک ہسپتال میں مڈ وائف تھی ۔وہاں مختلف افکار ونظریات کے لوگ پائے جاتےتھے مثلا وہاں ایک یونیورسٹی پروفیسر تھے جو میرے حجاب کی تعریف کیا کرتے تھے لیکن جو ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ تھی اسے میرے پردے پراعتراض تھا اس نے مجھ سے کہا تھا کہ ماہ رمضان کے بعد اس پردے کو تم اتار دینا کیوں کہ وہ یہ سمجھ رہی تھی کہ میں صرف اس مہینے میں ہی سر پر اسکارف باندھتی ہوں لیکن میں نے اس کے جواب میں کہا کہ یہ حجاب میرے دین کا ایک جز ہے اورمیں ہرگز ایسا نہیں کروں گي ۔ نتیجے میں بہت زیادہ مشکلات مجھے پیش آئیں لیکن حقیقت میں پردے کی میری نظر میں بہت اہمیت اور عظمت تھی اور میں اس کے لئے تمام مشکلات اور سختیاں برداشت کرنے کے لئے تیار تھی ۔ آخرکار محترمہ جمیلہ الفرقان نے ، جو مذہب تشیع کی گرویدہ ہوچکی ہیں ، خداوند عالم پر توکل اور اہل بیت پیغمبر سے توسل اور ان سے امداد طلب کرنے کے ذریعے اپنی مشکلات پر قابو پالیا۔ اور اس وقت وہ ایک دیندار مسلمان کی حیثیت سے اپنے انفرادی اور اجتماعی کاموں کو بنحو احسن انجام دے رہی ہیں ۔ محترمہ سوزان کہتی ہیں گذشتہ دہائیوں میں خواتین سے متعلق مختلف مسائل منجملہ مذہب کے بارے میں بہت زيادہ تبدیلیوں کا میں نے مشاہدہ کیا لیکن جو مسئلہ میری نظر میں مغربی محققین کی جانب سے تشنہ رہ گیا ہے اور اس کاجواب نہیں دیا گيا ہے ، اسلام کی جانب ، مغربی خواتین کے روز افزون رجحان کا مسئلہ تھا ۔ بہت سے مغربی باشندوں کا خیال ہے کہ اسلام ایک محدود دین ہے اور یہ دین خواتین کو، خواہ وہ ان کی انفرادی زندگي میں ہو یا اجتماعی زندگی میں ، مردوں میں محصور اور ان کا مطیع بناد یتا ہے ۔ اس کے باوجود تعجب آور بات یہ ہے کہ سرکاری اعداد وشمار سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ بہت سی مغربی، خاص طور پر امریکی خواتین نے اسلام کو قبول کرلیاہے ۔ درحقیقت امریکیوں کی ایک تعداد نے ،کہ جس ميں روز بروز اضافہ ہورہا ہے ، دین اسلام کو ، ایک باضابطہ دین اور اپنی زندگي گذارنے کی روش کے طور پر انتخاب کیا ہے اور ان کے درمیان خواتین کی تعداد زیادہ ہے ۔ امریکہ میں مسلمانوں کی بڑھتی تعداد سے متعلق اعداد وشمار مختلف ہيں لیکن " حقائق " کیلنڈر ( the Alamance book of facts ) میں شائع ہونے والے اعدادو شمار کے مطابق ، جو ایک معتبر کیلینڈر ہے ، صرف ریاستہائے متحدہ امریکہ ميں سالانہ ایک لاکھ افراد دین اسلام قبول کررہے ہيں ۔ اور امریکہ اور پوری دنیا میں، اس تعداد میں روز افزوں اضافے کے پیش نظر ، دین اسلام اور اس کی حیات آفریں تعلیمات کی حقانیت کو درک کرنے کی ضرورت ہے۔
حضرت آدمؑ، عیسیؑ وحواؑ کی پیدائش کس سائنسی اصول کے تحت ہوئی؟
ایک ملحد نے ایک پوسٹ کی ہے جس پر ہمارے کچھ ردِ الحاد کے ساتھی عجیب و غریب طریقے سے حضرت مریم علیہ السلام میں Y کروموزومز کی موجودگی کی وضاحتیں کرنے میں مصروف ہیں ۔ یہ وہ معجزات ہیں جن کا سائنس انکار کر سکتی ہے نہ کوئی وضاحت ۔ان کا پہلا سوال ہے ۔1۔ حضرت آدم کس سائنسی اصول یا قانون کے تحت مٹی کے پتلے پر پھونک مارنے سے زندہ ہوگئے؟جواب ۔ سادہ سا جواب ہے ۔ کسی سائنسی اصول کے تحت نہیں ۔ ﷲ تعالیٰ کو کسی مردے میں جان ڈالنے کے لئے سائنس کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔ اس کے سارے کام کن فیکون سے ہو جاتے ہیں ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اعتراض کر کون رہا ہے ؟ سائنس اور نظریۂ ارتقاء کے حامی ملحد ؟ان کے پاس منہ نہیں یہ سوال کرنے جوگا ۔
نظریۂ ارتقاء کو جو لوگ اچھے سے سمجھتے ہیں وہ یہ جانتے ہیں کہ سائنس آج تک پہلی حیات کی وضاحت نہیں کر پائی ۔ ایک یک خلوی جرثومے کے اندر کس سائنس دان نے پھونک ماری تھی جو وہ مردہ سے زندہ ہو گیا ؟ یہ سوال میں جب بھی کسی ارتقائی ملحد سے پوچھتا ہوں وہ جواب میں کہتا ہے کہ نظریۂ ارتقاء کا یک خلوی جرثومے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے ۔ نظریۂ ارتقاء اس سے ایک قدم آگے سے شروع ہوتا ہے ۔ کیوں ؟ کیوں کہ سائنس آپ کو یہ تو بتا سکتی ہے کہ وہ جرثومہ پودے میں کیسے بدلا مگر یہ بتانے سے قاصر ہے کہ بے جان چیزوں سے زندہ جرثومہ کیسے وجود میں آگیا ۔ لہٰذا وہ اس سوال سے ہی جان چھڑا لیتے ہیں ۔ اب اس سوال کا سادہ سا جواب یہ بنتا ہے کہ جس سائنسی اصول پر تین بے جان کیمیکلز کے ملاپ سے یک خلوی جرثومہ زندہ ہو گیا اسی سائنسی اصول پر حضرت آدم علیہ السلام بھی زندہ ہو گئے ۔ آگے چلیئے ۔ اگلا سوال ہے ۔ 2۔ جوان جمان بی بی حوا کس سائنسی اصول یا قانون کے تحت ایک مرد یعنی حضرت آدم کے پسلی سے پیدا ہوکر دنیا میں نمودار ہوئی تھی؟ جواب ۔ پچھلے جواب کی روشنی میں اس کا جواب بھی وہی ہو گا ۔ اﷲ نے ہر جاندار جوڑوں میں بنایا ہے ۔ لہٰذا جس سائنسی اصول پر آدم علیہ السلام پیدا ہوئے اسی سائنسی اصول پر حوا علیہ السلام بھی پیدا ہوئیں ۔ اب چلتے ہیں اگلے سوال پر جس پر سب سے زیادہ بحث ہے ۔ 3۔ سبکو پتہ ہے کہ مردوں میں xy کروموسومز ہوتے ہیں اور خواتین میں xx. سوال یہ ہے کہ کنواری بی بی مریم کو جو حمل ٹھہرا اس سے بعد میں ایک بچہ پیدا ہوا یعنی ایک ایسا انسان جو کہ xy کروموسومز کے ملاپ سے وجود میں آیا۔ مجھے وہ سائنسی اصول یا قانون بتائیں جس کے تحت کسی انسانی خاتون میں بغیر کسی y کروموسوم کے کوئی male بے بی پیدا ہوسکتا ہے؟ جواب ۔ ارتقاء کی تاریخ اگر ہم پڑھیں تو پتہ چلتا ہے کہ ارتقاء کا آغاذ یک خلوی جرثومے سے ہوا ۔یک خلوی جرثومے کی افزائش نسل کا طریقہ تھا کہ وہ اپنے آپ کو تقسیم کرتا تھا ۔ اسے قطعاً قطعاً قطعاً جنسی اختلاط کا علم نہیں تھا ۔ نہ اس نے کبھی اسے استعمال کیا ۔پھر وہ یک خلوی جرثومہ ترقی کر کے پودہ بن گیا ۔ اب اس نے افزائش نسل کا ایک نیا طریقہ سیکھا ۔ وہ تھا جنسی تولید ۔ کہاں سے سیکھا ؟ سانوں کی پتہ ؟ اس پودے کو بھی قطعاً قطعاً قطعاً جنسی اختلاط کا علم نہیں تھا ۔ نہ اس نے کبھی یہ طریقہ استعمال کیا ۔ بلکہ یہ اپنے آباء اجداد کا تقسیم والا طریقہ بھی بھول گیا ۔پھر یہ پودا ترقی کر کے آبی جاندار میں تبدیل ہوا ۔ یہاں سے جنسی اختلاط سے پہلی بار روشناس ہوا ۔ یعنی نر اور مادہ میں جنسی اختلاط ۔ یاد رہے پہلے آبی جاندار سے پہلے اس کرہ عرض پر کبھی کسی نے جنسی اختلاط نہیں کیا تھا ۔ اب میرا سوال بڑا سادہ سا ہے ۔ جس پہلے جاندار نے پہلی بار جنسی اختلاط کا طریقہ استعمال کیا اس کی اپنی پیدائش میں Y کروموزومز استعمال ہوئے یا نہیں ؟ جواب بھی بڑا سادہ ہے ۔ جی نہیں ۔ اس کے ماں باپ پودے تھے جو جنسی اختلاط نہیں بلکہ جنسی تولید کا طریقہ استعمال کیا کرتے تھے ۔ بغیر Y کروموزومز کے استعمال کے بغیر ایک جاندار وجود میں آچکا تھا ۔ اور یہ میں نہیں کہہ رہا ۔ یہ ارتقائی نظریہ کہتا ہے ۔ یعنی یہ سائنس ہے کوئی معجزہ نہیں ۔ تو اگر سائنس کے مطابق ارتقائی نظریئے میں بغیر Y کروموزومز کے ایک نر جاندار وجود میں آسکتا ہے تو حضرت عیسیٰ کی پیدائش پر اعتراض کیسا ؟ تحریر محمد سلیم
کیپٹن شاداب کے ساتھ ناردرن کی بلند پرواز، مسلسل تیسری فتح
پی سی بی نے آئی سی سی پینلزکے لئے میچ آفیشلز نامزد کردئیے
پاکستان کرکٹ بورڈ نے سیزن 21-2020 کےلیے آئی سی سی پینلز کے لیے اپنے میچ آفیشلز نامزد کردئیے ہیں۔
پی سی بی نے سابق ٹیسٹ کرکٹر علی نقوی اور پروفیسر جاوید ملک کو آئی سی سی پینل برائے انٹرنیشنل میچ ریفریز جبکہ احسن رضا، آصف یعقوب، راشد ریاض وقار اور شوزب رضا کو بطور آئی سی سی انٹرنیشنل پینل برائے امپائرز کے لیے نامزد کردیا ہے۔
علی نقوی کو پروفیسر محمد انیس کی جگہ انٹرنیشنل پینل میں شامل کیا گیا ہے۔ محمد انیس نے نومبر 2017 میں اسکاٹ لینڈ اور پپوا نیو گنی کے درمیان دبئی میں کھیلے گئے دو ایک روزہ میچوں میں میچ ریفری کے فرائض انجام دئیے تھے۔
43 سالہ علی نقوی نے 5 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے 242 رنز اسکور کیے تھے۔ جنوبی افریقا کے خلاف ڈیبیو کرنے والے علی نقوی نے 115 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔ وہ 2015 میں ریٹائر ہوئے تو 115فرسٹ کلاس میچوں پر مشتمل ان کے کیرئیر میں 5881 رنز شامل تھے۔
2014 میں جونیئر سلیکشن کمیٹی کے رکن بننے والے علی نقوی نے سیزن 17-2016 میں پی سی بی پینل آف میچ ریفریز کو جوائن کیا اور سیزن 19-2018 میں ایلیٹ پینل میں ترقی پائی۔ علی نقوی اس وقت میچ آفیشلز کے نمائندے کی حیثیت سے پی سی بی کی کرکٹ کمیٹی کا حصہ ہیں۔
بلال قریشی، منیجر امپائرز اینڈ ریفریز:
منیجر امپائرز اور ریفریز بلال قریشی کا کہنا ہے کہ وہ آئی سی سی پینل برائے انٹرنیشنل میچ ریفریز میں ترقی پانے پر علی نقوی کو مبارکباد دیتے ہیں، اپنی کارکردگی کی بدولت وہ اس ترقی کےمستحق تھے۔
انہوں نے کہا کہ علی نقوی کے پاس قواعد و ضوابط کا وسیع علم ہے اور ہمارے ڈومیسٹک نظام میں انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، ایک سابق کرکٹر کی حیثیت سے علی نقوی پروفیشنل کرکٹرز کے مائنڈسیٹ سے بھی اچھی طرح واقف ہیں۔
بلال قریشی کا کہنا ہے کہ پی سی بی اپنی حکمت عملی کے تحت سابق کھلاڑیوں کے میچ آفیشلز بننے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کا سلسلہ جاری رکھے گا، اس سے نہ صرف وہ کھیل سے منسلک رہیں گے بلکہ انہیں ایک نئے کیرئیر کے لیے واضح راستہ بھی میسر آئے گا۔
منیجر امپائرز اینڈ ریفریز کا مزید کہنا تھا کہ جتنے زیادہ سابق کھلاڑی اس پیشہ سے منسلک ہوں گے، پاکستان کے لیے آئی سی سی کے ایلیٹ پینل میں نمائندگی کے اتنے ہی زیادہ مواقع پیدا ہوں گے، فی الحال صرف علیم ڈار ہی آئی سی سی کے ایلیٹ پینل میں شامل واحد پاکستانی ہیں جبکہ آخری مرتبہ وسیم راجہ 2004 میں میچ ریفری کی حیثیت سے اس کٹیگری کا حصہ بنے تھے۔
بلال قریشی کا کہنا ہے کہ وہ انٹرنیشنل پینل میں پاکستان کی خدمت کرنے والے محمد انیس کا شکریہ اداکرتے ہیں ۔ ا نہوں نے کہا کہ محمد انیس اب بھی بہت باصلاحیت ہیں اور انہیں یقین ہے کہ نئی نسل محمد انیس کے تجربے سے بہت کچھ سیکھے گی۔





